منگل ۲۸ ستمبر۲۰۲۱

آب و ہوا میں تبدیلی سے ہر سال مزید موسمیاتی تباہی آئے گی، اقوام متحدہ

بدھ, ۱۴   اکتوبر ۲۰۲۰ | ۰۴:۲۸ شام

گرمی کی لہروں، گلوبل وارمنگ، جنگل میں لگی آگ، طوفان، خشک سالی اور طوفان کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں اقوام متحدہ کے موسم کے حوالے سے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ جن لوگوں کو بین الاقوامی سطح پر انسانی مدد کی ضرورت ہے ان کی تعداد 2018 میں 10 کروڑ 80لاکھ کے مقابلے میں 2030 تک 50فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق شراکت داروں کی مدد سے جاری کی گئی ایک نئی رپورٹ میں عالمی محکمہ موسمیات کی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ہر سال موسم کی وجہ سے زیادہ آفات آرہی ہیں، اس میں کہا گیا ہے کہ 11ہزار سے زیادہ آفات موسم، آب و ہوا اور سونامی سے منسوب ہیں جو پچھلے 50 سالوں میں پانی سے متعلق ہیں جس کی وجہ سے 20 لاکھ اموات ہوئیں اور اس کے نتیجے میں 36کھرب ڈالر کے معاشی اخراجات ہوئے۔ اس عرصے کے دوران ہونے والی ایک حوصلہ افزا پیش رفت کے دوران ہر موسمی تباہی سے اوسطاً سالانہ ہونے والی اموات میں ایک تہائی کی واقع ہوئی ہے حالانکہ اس طرح کے واقعات اور اس کے نتیجے میں ہونے والے معاشی نقصانات میں اضافہ ہوا ہے۔‎ بین الاقوامی اسٹیٹ آف کلائیمٹ سروسز 2020 کی رپورٹ 16 بین الاقوامی ایجنسیوں اور مالیاتی اداروں نے مرتب کی تھی اور اس رپورٹ میں حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ رقم اس تباہی کے حوالکے سے خبرار کرنے والے نظام کے لیے استعمال کریں تاکہ ملکوں کی ان قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت اور ردعمل کو بہتر بنایا جا سکے۔ عالمی سطح پر موسم کی تنظیم کے سیکریٹری جنرل پیٹیری تالس نے کہا کہ گوکہ کووڈ۔19 نے بین الاقوامی سطح پر صحت اور معیشت کا بڑا بحران پیدا کیا ہے جس سے نکلنے میں سالوں لگیں گے لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ موسمیاتی تبدیلی انسانی زندگیوں، ماحولیاتی نظاموں، معیشتوں اور معاشروں کے لیے جاری و ساری خطرے کا باعث بنے گی۔   انہوں نے کہا کہ کوڈ19 وبائی امراض سے بحالی انسانیت کی آب و ہوا میں تبدیلی کی روشنی میں لچکدار اور موافقت کی طرف ایک زیادہ پائیدار راستے پر آگے بڑھنے کا موقع ہے۔ طلاس نے ایک نیوز کانفرنس میں چین کے سی سی ٹی وی نیٹ ورک کے سوال کے جواب میں گزشتہ ماہ چینی صدر شی جنپنگ کی جانب سے کیے گئے بڑے اعلان کو بھی سراہا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کا ملک 2060 تک کاربن سے پاک ہونے کا ارادہ رکھتا ہے، طلالس نے چین میں شمسی اور ہوا جیسے قابل تجدید توانائی پروگراموں میں ہونے والی سرمایہ کاری کو نوٹ کیا جہاں دنیا بھر میں ایک چوتھائی کاربن کا اخراج بڑے پیمانے پر کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کی وجہ سے ہوتا ہے۔

تبصرہ کریں